تحریر: فروا بتول
حوزہ نیوز ایجنسی|
وقت ایک ایسا خاموش دریا ہے جو مسلسل بہہ رہا ہے اور اس کے دھارے میں جو لمحہ ایک بار گزر جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ انسانی زندگی درحقیقت انہی لمحوں، دنوں اور برسوں کا مجموعہ ہے۔ اس طویل سفر میں فرصت (فراغت کا وقت) ایک ایسا انمول تحفہ ہے جو انسان کو اپنی شخصیت کی تعمیر، فکری پختگی اور روحانی بالیدگی کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم اکثر فرصت کو محض "وقت گزاری" یا بے مقصد مصروفیات کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ یہی وہ سنہری سرمایہ ہے جو عام انسانوں کو عظیم مفکرین، کامیاب شخصیات اور مؤثر رہنماؤں میں تبدیل کر دیتا ہے۔
معصومینؑ کے اقوال کی روشنی میں:
خاندانِ عصمت و طہارتؑ نے وقت اور فرصت کی اہمیت کو نہایت جامع اور بصیرت افروز انداز میں بیان فرمایا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فرصت۔"
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فرصت کی عارضی نوعیت کو ایک نہایت خوبصورت تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا: "فرصتیں بادلوں کی طرح تیزی سے گزر جاتی ہیں، لہٰذا نیکی کی فرصتوں کو غنیمت جانو۔"
ایک اور مقام پر آپؑ فرماتے ہیں:"جس نے فرصت کو ضائع کیا، اس نے رنج و الم کو دعوت دی۔ آج کا کام کل پر مت چھوڑو، کیونکہ ہر دن کا اپنا ایک کام ہوتا ہے۔"
ان ارشادات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ فراغت کا وقت آرام طلبی، غفلت یا بے مقصد مشغولیات کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسی امانت ہے جس کے بارے میں انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا ہوگا۔
فرصت: ذات کی دریافت اور تعمیر کا سفر
نفسیاتی اور فکری اعتبار سے فرصت وہ قیمتی وقت ہے جب انسان دنیا کے شور و غل اور روزمرہ کی مصروفیات سے الگ ہو کر خود اپنا محاسبہ کرتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جو انسان کو اپنی خامیوں کا جائزہ لینے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
مطالعہ اور فکری ارتقا:
فراغت کے لمحات کو کتابوں کے مطالعے اور نئی چیزیں سیکھنے میں صرف کرنا ذہنی نشوونما کا باعث بنتا ہے۔ باشعور انسان فرصت کے اوقات میں ایسا علم حاصل کرتا ہے جو اسے معاشرے میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔
ہنر اور مہارت کا حصول:
جدید دور میں فرصت کے اوقات کو کسی نئے ہنر کے حصول یا اپنی موجودہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا انسان کو عملی زندگی میں خود مختار، بااعتماد اور باصلاحیت بناتا ہے۔
روحانی بالیدگی:
یہ وقت عبادت، تفکر، تدبر، کائنات کی نشانیوں پر غور و فکر اور اپنے خالق کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کے لیے بہترین ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کو سکون اور روح کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
جدید دور کا المیہ اور ڈیجیٹل خلفشار:
آج ٹیکنالوجی کے اس دور میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور بے مقصد اسکرولنگ نے ہماری فرصت کو نگل لیا ہے۔ انسان بظاہر فارغ ہوتا ہے، لیکن اس کا ذہن مسلسل ڈیجیٹل تھکاوٹ کا شکار رہتا ہے۔ یہی وہ جدید فریب ہے جو ہمیں اس قیمتی وقت سے محروم کر دیتا ہے جو ہماری شخصیت کی تعمیر، علمی ترقی، روحانی ارتقا اور سماجی تعلقات کی مضبوطی میں صرف ہونا چاہیے تھا۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"فرصت بہار کے بادل کی طرح جلد گزر جاتی ہے، لہٰذا کامیاب وہی ہے جو اس سے فائدہ اٹھائے۔"
جو لوگ وقت اور عمر کی قدر کو پہچان لیتے ہیں، وہ اپنے قیمتی لمحات کو بے مقصد کاموں میں ضائع نہیں کرتے، بلکہ ہر لمحے کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
بعض اہلِ علم نے اپنی زندگی کے معمولی سمجھے جانے والے اوقات کو بھی علم و تحقیق کے لیے استعمال کیا۔ وہ سفر، انتظار یا دیگر مختصر اوقات کو بھی قیمتی سرمایہ سمجھتے تھے اور اسی حسنِ تدبیر نے انہیں علمی دنیا میں ممتاز مقام عطا کیا۔
عربی زبان میں ایک خوبصورت شعر ہے:
ما فاتَ مَضى، وما سيأتيكَ فأين؟
قم فاغتنمِ الفُرصةَ بينَ العَدَمَينِ
ترجمہ:جو وقت گزر گیا، وہ گزر چکا، اور جو آنے والا ہے، وہ ابھی موجود نہیں۔ لہٰذا ان دو معدوم وقتوں کے درمیان موجود فرصت کو غنیمت جانو۔
شیخ سعدیؒ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
سرِ دی رفت و فردا همچنان موجود نیست
در میانِ این و آن فرصت شمار امروز را
ترجمہ:گزرا ہوا کل بیت چکا، آنے والا کل بھی ابھی موجود نہیں؛ لہٰذا ان دونوں کے درمیان آج کی فرصت کو غنیمت جانو۔
معصومینؑ کی تعلیمات بھی ہمیں غفلت سے بیدار کرتی ہیں اور وقت کے ہر لمحے کے بارے میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرتی ہیں۔
حرفِ آخر:
فرصت کوئی خالی کینوس نہیں جسے یونہی چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ وہ برش اور رنگ ہیں جن سے انسان اپنی شخصیت اور مستقبل کا شاہکار تخلیق کرتا ہے۔ اگر ہم معصومینؑ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے وقت کی قدر کریں اور اسے علم، عبادت، خدمتِ خلق، مطالعہ اور مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں، تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی کامیابیوں سے ہمکنار ہوگی بلکہ ایک باشعور، باکردار اور متوازن معاشرے کی تشکیل بھی ممکن ہو سکے گی۔
آئیے، فرصت کے ایک ایک لمحے کو غنیمت جانیں، کیونکہ گزرا ہوا وقت صرف حسرتیں اور پچھتاوے چھوڑ جاتا ہے، جبکہ درست استعمال کیا گیا وقت تاریخ رقم کر دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ